یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ان کے ملک میں امن معاہدے کے حصول کی کوششیں ایک متحدہ محاذ کے ساتھ ہوں گی جس میں یورپ اور امریکہ شامل ہیں۔
یوکرینی رہنما ویک اینڈ پر غیر معمولی سیاسی سرگرمیوں میں پر مصروف رہے۔ سب سے پہلے تو وہ امریکہ اور یوکرین کے تعلقات کو منقطع کرتے نظر آئے، لیکن اس کے بعد لندن میں بات چیت ہوئی جہاں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور یورپی رہنماؤں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
لندن سمٹ: یوکرین، برطانیہ اور فرانس مل کر سیزفائر پلان تیار کرنے پر متفق
لندن میں بات چیت کے اختتام پر، زیلنسکی نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن انہوں نے اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ وہ امن معاہدے کے تحت روس کو کوئی علاقہ نہیں دیں گے۔
کیر اسٹارمر کے مطابق، یورپی رہنما یوکرین میں لڑائی ختم کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے والے ہیں۔
اس کے بعد یہ منصوبہ امریکی صدر کو پیش کیا جائے گا۔
لندن اجلاس میں کیا ہوا؟
واشنگٹن اور اس کے روایتی مغربی اتحادیوں کے درمیان خلیج پیدا ہونے کے درمیان درجنوں یورپی رہنماؤں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے لندن میں ملاقات کی۔
ٹرمپ اور زیلنسکی میں گرما گرمی، کس نے کس کو کیا کہا؟
یورپی رہنماؤں نے روسی افواج کے خلاف جنگ میں یوکرین کا ساتھ دینے کے اپنے عہد کا اعادہ کیا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ یوکرین کی سلامتی “یہاں کی ہر قوم اور بہت سے دوسرے لوگوں کی سلامتی کے لیے اہم ہے۔”
یوروپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لائن نے یورپی دفاع میں “بڑے پیمانے پر اضافے” کی ضرورت کی بات کہی۔ وہ اس ہفتے کے آخر میں یورپ کو “دوبارہ مسلح” کرنے کا منصوبہ پیش کرنے والی ہیں۔
اسٹارمر نے یوکرین کو ہزاروں جدید فضائی دفاعی میزائلوں کی فراہمی کے لیے 2 بلین ڈالر کے نئے معاہدے کا بھی اعلان کیا۔
لندن میٹنگ میں موجود کئی ممالک نے برطانیہ اور فرانس کی حمایت یافتہ امن فوج کے اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی۔
روس کی جانب سے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف حفاظتی ضمانت کے طور پر ایک امن معاہدہ طے پانے کے بعد اتحاد یوکرین میں فوج بھیجے گا۔
اتوار کے روز لندن سمٹ امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات کے صرف دو روز بعد منعقد ہوئی، جس میں یوکرینی صدر زیلنسکی صدر ٹرمپ کے مہمان تھے، مگر اس دوران ہونے والی گرما گرم بحث میں امریکی صدر نے یوکرینی ہم منصب پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ زیلنسکی امریکہ کی طرف سے روسی یوکرینی جنگ میں کییف کی اب تک کی جانے والی مدد پر واشنگٹن کے کافی حد تک شکر گزار نہیں تھے۔